اردوانٹرنیشنل

افغان طالبان نے امریکا اور دیگر عالمی طاقتوں کا دباﺅ مستردکردیا‘حلف برداری11ستمبر کو ہی ہوگی .ترجمان

دنیا کو بتانا چاہتے ہیں کہ نائن الیون حملوں میں ان کا کوئی ہاتھ تھا نہ ہی اس کے لیے افغانستان کی سرزمین استعمال ہوئی تھی تو امریکا کے پاس افغانوں پر 20سال تک جنگ مسلط رکھنے کا کیا جواز تھا؟.ترجمان کا امریکی وزارت خارجہ کے بیان پر جواب

کابل(تازہ ترین-ا نٹرنیشنل پریس ایجنسی۔09 ستمبر ۔2021 ) افغان طالبان نے امریکا اور دیگر عالمی طاقتوں کا دباﺅ مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ عبوری حکومت کی حلف برداری کی تقریب 11ستمبر کو ہی ہوگی واضح رہے کہ اسی دن امریکا ورلڈ ٹریڈ سینٹر حملوں کی برسی مناتا ہے .

طالبان کی جانب سے 11ستمبر کو عبوری حکومت کی تقریب حلف برداری کے اعلان پر امریکا نے براہ راست اور پاکستان سمیت کئی ملکوں سے طالبان سے کہا تھا کہ وہ حلف برداری کی تقریب کی تاریخ میں تبدیلی کرلیں طالبان کا کہنا ہے کہ وہ 11ستمبر کو یہ تقریب منعقد کرکے دنیا کو بتانا چاہتے ہیں کہ نائن الیون حملوں میں ان کا کوئی ہاتھ تھا نہ ہی اس کے لیے افغانستان کی سرزمین استعمال ہوئی تھی تو امریکا کے پاس افغانوں پر 20سال تک جنگ مسلط رکھنے کا کیا جواز تھا؟.

عالمی ذرائع ابلاغ پریہ خبر بھی زیر گردش ہے کہ افغانستان کی نئی حکومت کی افتتاحی تقریب میں روسی سفارتی عہدیدار شرکت کریں گے طالبان کی جانب سے پاکستان ‘ایران‘چین‘قطر‘سعودی عرب ‘متحدہ عرب امارات اور ترکی سمیت دیگر ممالک کو تقریب میں شرکت کی باضابط دعوت دے رکھی ہے اسلام آباد کی جانب سے ابھی تک کوئی اعلان سامنے نہیں آیا کہ پاکستانی وزیرخارجہ یا کوئی اعلی حکومتی عہدیدار تقریب میں شریک ہوگا یا نہیں.

طالبان ترجمان کے مطابق ملا محمد حسن اخوند وزیراعظم جب کہ ملا برادر اور ملا عبدالسلام حنفی نائب وزیراعظم ہوں گے افغانستان کی نئی حکومت وزیراعظم اور ان کے دو معاونین سمیت طالبان کی 34 رکنی عبوری کابینہ اور حکومت کا اعلان کیا جاچکا ہے جس میں 20 وزرا اور سات نائب وزرا شامل ہیں. فوج اور افغان مرکزی بینک کے سربراہ سمیت حکومت کے ڈائریکٹر برائے انتظامی امور کا بھی تقرر کیا گیا ہے ان 34 عہدوں میں تین افراد کے علاوہ تمام پشتون النسل افغان ہیں‘طالبان کی اس نئی حکومت اور کابینہ میں 15 افراد کا تعلق جنوبی افغانستان سے، 10 کا جنوب مشرقی، پانچ کا مشرقی اور تین کا شمالی افغانستان سے ہے

نامزدوزیراعظم ملا حسن اخوند طالبان تحریک کے اہم رکن اور اس کے بانی ملا محمد عمر کے قریبی ساتھی رہے ہیں، جس کی وجہ سے ان کو طالبان حلقوں میں خصوصی احترام حاصل ہے ملا حسن نوے کی دہائی میں طالبان کے وزیراعظم ملا محمد ربانی کے ساتھ نائب وزیر اعظم رہے جبکہ 2001 کی ابتدا میں ربانی کی وفات پر وہ ان کے جانشین بنے اس کے علاوہ ملا حسن طالبان کی اس دس رکنی سربراہی کونسل میں بھی شامل تھے جسے ملا عمر نے مئی 2002 میں امریکہ اور اس کی اتحادی افواج کے خلاف مزاحمت کا آغاز کرنے کے لیے منتخب کیا تھا ملا حسن طالبان کی اس سربراہی کونسل کے امیر بھی رہے جو طالبان کا سب سے اعلی فیصلہ ساز ادارہ ہے اور طالبان کے سپریم کمانڈرملا ہیبت اللہ اخونزادہ کے تحت کام کرتا ہے طالبان نے ایرانی طرزکا جمہوری ماڈل اپنایا ہے جس میں فیصلہ ساز قوت سپریم کمانڈر اور ان کے تحت اعلی اختیاراتی کونسل کو حاصل ہوگی.

اس نئی کابینہ کی ایک اہم خصوصیت ہے کہ اس میں طالبان کے دو اہم خاندانوں سے دو دو وزرا منتخب کیے گئے ہیں جس میں طالبان کے بانی ملا عمر کے بیٹے مولوی یعقوب عمری وزیر دفاع اور ان کے سوتیلے بھائی ملا عبدالمنان عمری فوائد عامہ کے وزیر ہیں مولوی یعقوب 2016 میں شیخ ہبت اللہ کے طالبان سربراہ منتخب ہونے کے بعد ان کے نائب اور طالبان ملٹری کمیشن کے سربراہ ہیں جسے طالبان کی شیڈو وزارت دفاع بھی کہا جا تارہاہے.

ملا عمر کے گھرانے کے علاوہ طالبان کے سینئیر لیڈر مولوی جلال الدین حقانی کے بیٹے سراج الدین حقانی عرف خلیفہ کو وزیر داخلہ اور ان کے بھائی خلیل حقانی کو وزیر برائے مہاجرین مقرر کیا گیا ہے سراج الدین بھی ملا یعقوب کی طرح طالبان کے نائب سربراہ ہیں یہ امر دلچسپ ہے کہ ملاسراج حقانی اور خلیل دونوں امریکہ کے مطلوب افراد کی فہرست میں ہیں اور ان پر امریکہ نے بالترتیب دس اور پانچ ملین امریکی ڈالر کا انعام رکھا ہے

ملا عمر کے دیرینہ معاون ملا عبدالحئی نے طالبان تحریک پر لکھی گئی اپنی کتاب میں حقانی خاندان سے متعلق لکھتے ہیں کہ جلال الدین حقانی کے بیٹوں نے نائن الیون کے بعد تقریباً آدھے افغانستان میں طالبان کا مضبوط جنگی محاذ قائم کیا جس میں اس گھرانے کے بچوں، عورتوں سمیت کئی افراد امریکی ڈرون حملوں میں مارے گئے جس کی وجہ سے طالبان کے اندر ان کو کافی مقبولیت حاصل ہے.

اس کے علاوہ طالبان تحریک کے ایک اور اہم رکن ڈاکٹر امیر خان متقی کو طالبان حکومت کا وزیر خارجہ مقرر کیا گیا ہے متقی بھی ان دس اشخاص میں سے تھے جنہیںملا عمر نے نائن الیون کے بعد طالبان کی اول سربراہی کونسل میں شامل کیا تھا وہ نوے کی دہائی میں طالبان کے وزیر برائے اطلاعات و کلچر بھی رہے اور نائن الیون کے بعد طالبان کے اسی کمیشن کے برسوں تک سربراہ بھی اس وقت بھی وہ طالبان کے ”دعوت ورارشاد کمیشن“کے سربراہ ہیں جس کے بارے میں خیال کیا جارہا ہے کہ یہ ادارہ ایران کے آیت اللہ کے تحت کام کرنے والی اعلی اختیاراتی شوری کی طرزپرکام کرئے گا جس کی سربراہی براہ راست سپریم کمانڈر ملا ہبیت اللہ اخونزادہ کو منتقل کردی جائے گی.

طالبان کا اکثریتی صوبوں اور اضلاع پر بغیر جنگ کے قبضہ اور ہزاروں سابق افغان حکومت کے سکیورٹی فورسز کا ان کو تسلیم کرنے کا اصل سبب متقی کی تجویز کردہ اسی پالیسی کو گردانا جاتا ہے‘طالبان حکومت کی اس نئے کابینہ میں ان پانچ طالبان سنیئر کمانڈروں میں سے ان چار کو بھی شامل کیا گیا ہے جو 2014 میں امریکہ کے بدنام زمانہ عقوبت خانے گوانتنامو بے میں کئی سال کی قید رہے ہیں جن میں ملا فاضل اخوند، ملا عبدالحق واثیق، ملا نوراللہ نوری، ملا خیر خواہ اور مولوی محمد نبی عمری شامل تھے.

طالبان حکومت میں سب سے دلچسپ تقرری فوج کے سربراہ کی ہے جس کے لیے صوبہ بدخشان سے تعلق رکھنے والے تاجک النسل طالبان اہم کمانڈر قاری فصیح الدین کو منتخب کیا گیا ہے طالبان کے لیے گذشتہ برسوں میں ان کی عسکری فتوحات کو دیکھتے ہوئے اس عہدے پر تعینات کیا گیا ہے. یاد رہے بدخشاں ان دو صوبوں میں سے ایک تھا جو نوے کی دہائی میں احمد شاہ مسعود کے زیر قیادت شمالی اتحاد کا گڑھ رہا اور طالبان آخر تک اس کو مکمل اپنے زیر قبضہ نہ لا سکے نائن الیون کے بعد کے آخری برسوں میں یہاں سے قاری فصیح الدین اور دیگر تاجک طالبان کی صفوں میں شامل ہو گئے جس کی وجہ سے طالبان کو مقامی آبادی میں نفوذ حاصل ہوا یہی وجہ تھی کہ قاری فصیح الدین نے شمال میں طالبان کے لیے ازبک اور تاجک جنگجوﺅں کی ایک ایسی کھیپ تیار کی جس کے سبب حیران کن طور پر افغانستان کا شمال طالبان کا گڑھ بن گیا.

یہ قاری فصیح الدین ہی تھے جو شمال میں طالبان جنگجوﺅں کے کمان دان اعلیٰ رہے اور ان کی سربراہی میں طالبان نے افغانستان میں شمالی صوبوں کو فتح کیا جبکہ یہ سمجھا جاتا تھا کہ شاید ماضی کی طرح اس بار بھی طالبان کو یہاں سے شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑے گا اس سال کے ابتدائی مہینوں میں قاری فصیح الدین کو ملا یعقوب کے تحت طالبان ملٹری کمیشن کا نائب سربراہ برائے شمال افغانستان مقرر کیا گیا تھا.

قاری فصیح الدین کے علاوہ دو دیگر غیر پشتون افراد کو بھی حکومت کا حصہ بنایا گیا ہے جس میں نائب وزیر اعظم مولوی عبدالسلام حنفی اور وزیر برائے اقتصاد قاری دین محمد حنیف شامل ہیںطالبان نے اس مرتبہ صرف پشتون ہی نہیں بلکہ پورے افغانستان سے تمام اہم قبائل کے لوگوں کو حکومت میں شامل کیا ہے.

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button