اردوپاکستانکھیل

حب الوطنی اور غدار باونسر

جہاں ہم نیوزی لینڈ کو شرم دلا رہے ہیں وہاں ہمیں اپنی حکومت کو باور کروانا بھی ضروری ہے کہ انکو کیا اقدامت اٹھانے ضروری ہیں۔ہمیں یہ سوال اٹھانا چاہیے کہ وزیر داخلہ کی ایسی کیا مصروفیت تھی کہ اتنے بڑی ممکنہ ڈپلومیٹک واردات اور الزام تراشی پر کئی گھنٹے تاخیر سے پریس کانفرنس کی۔ہم نے ابھی تک نیوزی لینڈ سے یہ سوال کیوں نہیں۔

نیوزی لینڈ ٹیم کا میچ والے دن دورہ کینسل کرنا اور ناقص سیکیورٹی کا شکوہ کر کے چلتے بننا کرکٹ تاریخ کا شرمناک واقعہ ہے۔چھ دن پاکستان میں گزارنے اور سٹڈیم میں پریکٹس کرنے کے دوران کسی خدشہ کا اظہار نہیں کیا گیا۔پھر ٹاس سے کچھ دیر پہلے دورہ منسوخ کرنا انتہا درجے کی کم ظرفی ہے۔دوسری طرف پاکستان اپنی تمام تر زمہ داریاں نبھانے اور بہترین میزبانی کی روایت روا رکھنے کے باوجود اس خفت سے دو چار ہو گیا۔وطن عزیز کے شائقین اتنے اعلی ظرف اور جذباتی ہیں کہ ہمیشہ مہمان ٹیم کے جھنڈے لے کر میدان میں جاتے ہیں تاکہ مہمان ٹیم کو میدان میں اپنے سپورٹرز کی کمی محسوس نہ ہو۔بلیک کیپس نے صرف ایک داغدار رخصتی نہیں کی بلکہ دنیا بھر میں موجود کرکٹ شائقین خاص طور پر پاکستانیوں کو اپنا حریف بنا لیا۔اب میدان کوئی بھی ہو، مخالف ٹیم کوئی بھی ہو ،نعرے نیوزی لینڈ کے خلاف گونجیں گے۔بہر حال سارے معاملات کا بغور جائزہ لینے کے بعد یہ عقدہ کھلتا ہے کہ نیوزی لینڈ کی طرف سے یہ شرمناک پچ ڈپلومیٹک میدان میں تیار ہوئی ۔
پاکستان میں نیوزی لینڈ پر غصہ نکالنے کے ساتھ انکو بھی کوسا جا رہا ہے جو اس کار گالم گلوچ کا حصہ نہیں بنے یا اپنی صفوں میں درستی کی تجویز دے رہے ہیں۔حب الوطنی اللہ کی ایک نعمت ہے۔لیکن جذباتی طور پر ہر چیز کو حب الوطنی سے جوڑ کر یا اس بنیاد پر بہت سی چیزوں کو نظر انداز کرنا بہت بڑی غلطی ہے۔کرکٹ سیریز کی منسوخی کے ساتھ ہی حب الوطنی اور غداری کے سرٹیفیکیٹ بٹنے شروع ہو گئے۔فرق صرف یہ ہے کہ چند سال پہلے جنکو سرٹیفیکٹ مل رہے تھے وہ آج خود بانٹ رہے ہیں۔کچھ لوگ سوچ سمجھ سے عاری اور مخالفت در مخالفت میں ایسے موقع پر بھڑاس نکالتے ہیں اس میں سیاستدان، سیاسی ورکرز، اور صحافی سب شامل ہیں لیکن بہت سے لوگ قوم کی توجہ اہم امور پر دلوانے کی تگ ودو میں لگے ہوتے ہیں۔موجودہ یا سابقہ حکومت جو بھی ہو وہ ہمیشہ قومی بحث مباحثہ کو دوسری طرف موڑنے کا اہتمام کرتی ہے۔اور عموما لوگوں کے جذبہ حب الوطنی کو استعمال کیا جاتا ہے۔
جہاں ہم نیوزی لینڈ کو شرم دلا رہے ہیں وہاں ہمیں اپنی حکومت کو باور کروانا بھی ضروری ہے کہ انکو کیا اقدامت اٹھانے ضروری ہیں۔ہمیں یہ سوال اٹھانا چاہیے کہ وزیر داخلہ کی ایسی کیا مصروفیت تھی کہ اتنے بڑی ممکنہ ڈپلومیٹک واردات اور الزام تراشی پر کئی گھنٹے تاخیر سے پریس کانفرنس کی۔ہم نے ابھی تک نیوزی لینڈ سے یہ سوال کیوں نہیں کیا کہ ہماری زمہ دار ایجنسیوں کی کارکردگی اور رپورٹس پر سوال اٹھانے کے ذرائع ہم سے فوری طور پر شیئر کریں اورہمیں یہ بھی بتایا جائے کہ چند دن ہوٹل میں رہنے اور میدان میں پریکٹس کے دوران حفاظتی اقدامات پر مکمل اعتماد اور اظہار اطمینان کے بعد پوری سیریز منسوخ کرنے کی عجلت کیوں ؟کئی کھلاڑی پاکستان میں پی ایس ایل کھیل کر ہماری بہترین سیکیورٹی کا ثبوت دنیا کو دے چکے ہیں۔اسکے باوجود آخری وقت میں اگر کوئی پریشانی یا غلط فہمی آپکے دماغ میں کسی نے ڈالی تو وہ صرف اس وینیو سے متعلق تھی یا پورے ملک سے متعلق۔عوام کو یہ بھی سوال اٹھانا چاہیے کہ گزشتہ اڑتالیس گھنٹوں میں بین الاقوامی سطح پر کہاں آواز بلند کی گئی اور مستقبل میں اس جھوٹ کے تاثر کو زائل کرنے کے لیئے کیا اقدامات اٹھائے جائیں گے۔نیوزی لینڈ سے ہماری خارجہ پالیسی کا اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا۔ خدشات کے مطابق یہ ڈپلومیٹک واردات تھی تو ہماری وزارت خارجہ کہاں کھڑی ہے۔انگلینڈ کا ممکنہ دورہ اس واردات کی بھینٹ نہ چڑھے اس کیلیئے منصوبہ بندی کیا ہے۔مزید یہ کہ جو دورے کے دوران تھریٹ الرٹ جاری ہوتے رہے اگرچہ وہ عمومی حیثیت اور روٹین کا حصہ تھے لیکن وہ لیک کیوں ہوئے۔زمہ دار کون ہے۔یہ وہ سوالات ہیں جنکا جواب ڈھونڈنا اور منتظمین کو جوابدہ ٹھہرانا وطن عزیز سے غداری نہیں بلکہ حب الوطنی کا تقاضا ہے۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button