اردوانٹرنیشنلپاکستان

پنڈورہ پیپرز اصل میں کیا ہے؟ انویسٹیگیشن کس نے کی؟ کون سے ملک اور شخصیات شامل ہیں؟ جانئیے اوشن نییوز کی خصوصی رپورٹ میں

پنڈورہ پیپرز کی تحقیقات واشنگٹن ڈی سی میں بین الاقوامی کنسورشیم آف انویسٹی گیٹو جرنلسٹس (آئی سی آئی جے) کر رہی ہے جس میں 114 ممالک کے 600 سے زائد صحافی شامل ہیں

پنڈورہ پیپر اصل میں کیا ہے؟

پنڈورہ پیپرز بنیادی طور پر ایک لیکس ہے جو کہ دنیا کی تین بڑی لیکس میں اس وقت ٹاپ لیکس میں شامل ہے۔ یہ 12 ملین دستویزات پر مشتمل ہے جس میں چھپی ہوئی دولت، ٹیکس سے بچنے اور بعض صورتوں میں دنیا کے کچھ امیر اور طاقتوروں کی جانب سے منی لانڈرنگ کو ظاہر کیا گیا ہے۔ 12 ملین دستاویزات کی اس لیکس میں 64 لاکھ دستاویزات، تقریبا 30 لاکھ تصاویر، 10 لاکھ سے زیادہ ای میلز اور تقریباً ڈیڑھ لاکھ سپریڈشیٹ شامل ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق دنیا کے طاقتور ترین لوگ جس میں 90 ممالک کے 330 سیاستدان شامل ہیں جو کہ اپنی دولت کو چھپانے کے لئیے آف شور کمپنیوں کا سہارا لیتے ہیں۔

پنڈورہ پیپرز کی انویسٹیگیشن کس نے کی؟

پنڈورہ پیپرز کی تحقیقات واشنگٹن ڈی سی میں بین الاقوامی کنسورشیم آف انویسٹی گیٹو جرنلسٹس (آئی سی آئی جے) کر رہی ہے جس میں 114 ممالک کے 600 سے زائد صھافی شامل ہیں جو کہ 14 مختلف ذرائع سے ملنے والے ڈیٹا کی جانچ پڑتال کر رہے ہیں جس کے بعد آج سے ان کی خبریں شائع ہونا شروع ہو جائیں گی۔ پنڈورہ پیپرز کی جانچ پڑتال کے لئیے آئی سی آئی جے 140 سے زائد میڈیا اداروں کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے۔ پاکستان کی اگر بات کی جائے تو جیو گروپ کے سینئیر صحافی عمر چیمہ اور فخر درانی نے آئی سی آئی جے کی جانب سے کی جانے والی تحقیقات میں شمولیت اختیار کی ہے۔

پنڈورہ پیپرز میں کون سے ملک اور شخصیات شامل ہیں؟

پنڈورہ پیپرز کی تحقیقات میں جن ممالک اور ژخصیات کے نام سامنے آئے ہیں ان میں اردن، قطر، امارات، یوکرین، کینیا، ایکواڈور اور چیک ری پبلک سمیت 35 ممالک سے تعلق رکھنے والے موجودہ اور سابق حکمران شامل ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے 200 ممالک کے افراد کی 29 ہزار آف شور کمپنیوں کا انکشاف ہوا ہے اور ان افراد میں سے زیادہ تر کا تعلق روس، برطانیہ، ارجنٹائن، چین اور برازیل سے ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق عالمی رہنماؤں اور دیگر عوامی عہدیداروں کی زیادہ تر آف شور کمپنیاں برٹش ورجن آئی لینڈ میں رجسٹرڈ ہیں علاوہ ازیں امریکا کی دیگر 16 ریاستوں میں 206 ٹرسٹ کمپنیاں رجسٹرڈ ہیں جبکہ جنوبی ڈکوٹا میں سب سے زیادہ 81 ٹرسٹ کمپنیاں رجسٹرڈ ہیں اور یہیں سے زیادہ ڈیٹا ملا ہے۔

آف شور اثاثے رکھنے والے موجودہ اور سابق غیرملکی رہنماؤں اور ان کے عزیز و اقارب کے نام مندرجہ ذیل ہیں۔

اردن کے شاہ عبداللہ دوم، چیک ری پبلک کے وزیر اعظم آندریج بابیز، کینیا کے صدر یوہورو کینیاٹا، کانگو کے صدر ڈینس، لبنان کے وزیراعظم نجیب مکاتی، متحدہ عرب امارات کے وزیر اعظم محمد بن راشد المختوم، ڈومینکن ریپبلک کے صدر لوئس ابیندار، ایکواڈور کے صدر گوئیلرمو لاسو، مونٹی نیگرو کے صدر میلو جوکانووک اور یوکرین کے صدر وولو دی میئر زیلنسکی کے نام شامل ہیں۔

اس کے علاوہ قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد الثانی، سری لنکا کی سابق وزیر نیرو پاما راجہ پکسا، مراکش کی شہزادی لالا حسنہ، آذر بائیجان کے صدر الہام علیف کے بچوں، چلی کے صدر سباستین کے بچوں، روسی صدر پیوٹن کے قریبی ساتھیوں، برطانیہ کے سابق وزیراعظم ٹونی بلیئر، ہانگ کانگ کے سابق چیف ایگزیکٹو سی وائی لیونگ، بحرین کے سابق وزیراعظم شیخ خلیفہ بن سلمان ال خلیفہ، اردن کے سابق وزیراعظم عبدالکریم، اردن کے سابق وزیراعظم نادر و دیگر شامل ہیں۔

پنڈورا پیپرز میں بھارت کے معروف صنعتکار انیل امبانی، سابق بھارتی کرکٹر سچن ٹنڈولکر کی بھی آف شور کمپنیاں نکلی ہیں۔

آف شور کمپنی کیا ہوتی ہے؟

ایک آف شور کمپنی ایک قانونی کاروباری ادارہ ہوتا  ہے جو اپنے رجسٹرڈ دائرہ اختیار یا اس کی حتمی ملکیت کے مقام سے باہر کام کرنے کے ارادے سے قائم کی گئی ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر اگر کسی کے پاس برطانیہ میں جائیداد ہے تو وہ دوسرے ملکوں میں قائم کمپنیوں کی زنجیر یا “آف شور” کے ذریعے اس کا مالک بن سکتا ہے۔ اس کے لئیے ایسے علاقوں کا انتکاب کیا جاتا ہے جہاں کمپنیاں قائم کرنا آسان ہے اور  ایسے قوانین ہیں جن کی وجہ سے کمپنیوں کے مالکان کی شناخت مشکل ہو جاتی ہے۔ وہاں کوئی کارپوریشن ٹیکس نہیں ہوتا یا بہت ہی کم ہوتا ہے۔ ان جگہوں کو اکثر ٹیکس ہیون یا خفیہ دائرہ اختیار کہا جاتا ہے۔ ٹیکس کے ٹھکانوں کی کوئی حتمی فہرست نہیں ہے لیکن سب سے زیادہ مشہور مقامات میں برٹش اوورسیز ٹیرٹریز جیسے جزائر کیمین اور برٹش ورجن آئی لینڈ کے علاوہ سوئٹزرلینڈ اور سنگاپور جیسے ممالک شامل ہیں۔

کیا آف شور کمپنی غیر قانونی ہوتی ہے؟

غیر ملکی کاروبار کرنا غیر قانونی نہیں ہے اس کے لئیے آف شور کمپنی بنائی جا سکتی ہے لیکن اس کو قانونی طریقے سے ڈکلئیر کرنا ضروری ہوتا ہے اور اس میں اس بات کا بھی خیال رکھا جانا ضروری ہے کہ غیر ملکی کاروبار کے لئیے بنائی گئی آف شور کمپنی کسی غیر قانونی کام کے لئیے استعمال نہ کی جائے خاص طور پر غیر قانونی طور پر حاصل کی گئی دولت کو چھپانے کے لئیے استعمال نہ کی جائے۔

کیا آف شور کمپنی کو قانونی تحفظ حاصل ہوتا ہے؟

ایک آف شور کمپنی آپ کو کاروباری ادارے سے الگ کرتی ہے اور چونکہ آف شور ڈھانچہ بیرون ملک دائرہ اختیار میں واقع ہے وہاں ایک علیحدہ قانونی نظام اور قوانین کا ایک مجموعہ ہے جو کمپنی کی حفاظت میں مدد کرتا ہے اگر اسے کسی اثاثہ کی تلاش یا مقدمے میں نشانہ بنایا جائے۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button