موجودہ حکومت تیرہ سروں کا ساز

موجودہ حکومت تیرہ سروں کا ایسا ساز ہے جس کے بجنے سے ناصرف سننے والوں کے کان میں درد کا خدشہ بڑھتا جا رہا ہے بلکہ بجانے والے کو بھی سمجھ نہیں آ رہی کہ کونسا راگ آلاپا جا رہا ہے

موجودہ حکومت تیرہ سروں کا ایسا ساز ہے جس کے بجنے سے ناصرف سننے والوں کے کان میں درد کا خدشہ بڑھتا جا رہا ہے بلکہ بجانے والے کو بھی سمجھ نہیں آ رہی کہ کونسا راگ آلاپا جا رہا ہے۔حکومت ملتے ہی مفتاح اسماعیل فوری طور پر آئی ایم ایف اور سعودی عرب سے مذاکرات کرتے نظر آئے تو محسوس ہوا کہ بیٹھی معیشت کو اٹھانے کے امید بر آئے گی لیکن پھر وہ یوں منظر سے غائب ہوئے جیسے گدھے کے سر سے سینگ۔وزیراعظم جو بہترین انتظامی شہرت رکھتے ہیں یوں تو انہیں عوامی مسائل کا اتنا ادراک ہے کہ تیس ہزار کی بلندی سے زمین تک پہنچنے کیلئے درکار وقت بھی ضائع کرنے کی بجائے بذریعہ فون ہدایات دینے میں صرف کرنے کا دعوی کرتے ہیں۔لیکن دیکھا جائے تو انکی بھاگ دوڑ ایک سٹی میئر جیسی ہے۔وزیراعظم کا کام بہترین گورنس کیلیئے اقدامات اٹھانا، اصلاحات اور پالیسی سازی کرنا ہے۔جسکی طرف تقریبا ایک مہینہ بعد بھی ایک انچ پیش رفت نظر نہیں آئی۔انٹر نیٹ پر دیکھیں تو درجنوں کام گنوا کر آپ کو خیرہ کیاجاتا ہے لیکن زمین پر دیکھیں گے تو زمینی حقائق منہ چڑھائیں گے۔
بنیادی طور پر یہ وہی وطیرہ ہے جو پچھلی حکومت نے اپنائے رکھا اور اسکا نتیجہ آپ کے سامنے ہے۔اسکی ایک وجہ یہ ہے کہ ملک میں اس وقت تین وزراء اعظم ہیں۔ایک تو شہباز شریف ہیں۔باقی دو صلاح مشورے والے ہیں جنکے مشورے کو رد کرنے کا آپشن میسر نہیں۔ان میں پہلے نمبر پر لندن میں براجماں نواز شریف جنکی ڈکٹیشن ہر کام میں ثواب سمجھ کر لی جاتی ہے۔دوسرے نمبر پر وہ اتحادی ہیں جنکے مشورہ کو نہ مانے بغیر کرسی جمانا مشکل ہے۔اگر وزارت خزانہ کی بات کریں تو وہاں بھی صورت حال زیادہ مختلف نہیں۔ایک وزیرخزانہ مفتاح اسماعیل ہیں جو اسد عمر کی طرح پاور میں آنے سے پہلے معاشی بہتری کے گر بتاتے نہیں تھکتے تھے لیکن اب
انہیں چینی پٹرول کے لالے پڑے ہوئے ہیں۔دوسرے نمبر پر اسحاق ڈار ہیں جو باقاعدہ ٹیوشن بھی دے رہے ہیں اور یہاں آ کر معاشی باگ دوڑ سنبھالنے کو تیار بھی نہیں۔ تیسرے نمبر پر اتحادی مشیر ہیں۔لیکن ان سب کا اگر کسی بات پر اتفاق ہو بھی جائے تو انہیں ایک اور وزیرخزانہ کا سامنا ہے اور وہ ہیں جناب شہباز شریف۔جو معیشت بہتر کرنے کیلیئے یوں سر بکف ہیں کہ اپنے کپڑے بیچنے پر بھی تیار ہیں۔
اگر اپوزیشن کی بات کریں تو وہاں بھی عجیب کھچڑی ہے۔وہ بیرونی سازش کے بیانیئے پر عوامی ستائش حاصل کرنے کیلیئے مرکز سے اجتماعی استیعفے دیتے ہیں لیکن پنجاب میں وزارت اعلی کی دوڑ میں بھی شامل ہو جاتے ہیں۔اور جو گھڑمس مچتا ہے وہ دہرانے کی شاید ضرورت نہیں۔ایک خبر تو یہ بھی ہے کہ مستعفی ارکان تنخواہ بھی وصول کر رہے ہیں اب اس میں کتنی صداقت ہے یہ وقت بتائے گا۔بہرحال استعفوں کے ساتھ صدر اور گورنر کی کرسی بھی قائم اور جہاں انکی حکومت وہ بھی قائم رہتی ہے۔فوری الیکشن کو واحد حل بتانے والے ملک بھر میں سیٹ چھوڑنے پر بھی تیار نہیں۔کشمیر میں اپنے ہی وزیراعظم کے خلاف،خود تحریک عدم اعتماد لاکر، اپنے ہی ممبرز سے مخالف ووٹ دلوا کر دوبارہ اپنا وزیراعظم بنانے کی کہانی اس سیاسی کھچڑی کو مزید تڑکا لگاتی ہے۔
ادارے ابتداء میں کھلی وضاحت نہ کر کے سازش والے بیانیے کو پنپنے کا موقع دیتے رہے۔اب جب یہ ہانڈی پک چکی تو اب چولہے سے لکڑیاں نکالنے کو دوڑ رہے ہیں۔تجزیہ تو یہ بھی ہے کہ ایسٹیبلشمنٹ کا ایک حصہ اس آگ کو ہوا دے رہا ہے۔ادھر عمران خان میر جعفر کو سپہ سالار بنا دیتے ہیں تو اگلے دن نواز شریف کو یہ لقب دے کر رجوع کرتے نظر آتے ہیں۔شیخ رشید ایک وقت میں فوج کے ساتھ کھڑا ہونے کا دعوی کرتے ہیں اور اگلے فقرے میں باور کرواتے ہیں کہ “حق و باطل کے اس معرکے میں “وہ عمران خان کا ساتھ نبھانے کا تہیہ کیے ہوئے ہیں. اس سے بھی دلچسپ صورت حال یہ ہے کہ مقتدرہ کو سازشی کہنے والے انہیں فخر سمجھتے ہیں اور چند ماہ پہلے تک فخر سمجھنے والے اب انہیں سازش کا ہینڈلر پکار رہے ہیں۔
سیاسی ورکرز کی صورت حال بھی بڑی نمکین ہے۔منہگائی کے ہاتھوں مر جانے کی حد تک تنگ لوگ اب اتنی شدو مد سے شکوہ کرتے نظر نہیں آتے۔دوسری طرف چار سال ریکارڈ توڑتی منہگائی کی تاویلیں پیش کرتے لوگ تین ہفتوں میں منہگائی پر نوحہ کناں ہیں۔
یہ۔وہ سیاسی کھچڑی ہے جسکی وجہ سے سرمایہ داروں کا اعتماد کم ہوا ہے اور یوں ایک طرف ڈالر کی اڑان ہے اور سٹاک مارکیٹ میں بحران۔انتالیس ارب ڈالر کا تجارتی خسارہ اور آئی ایم ایف پروگرام کی بحالی میں تاخیر اس اعتماد کو بحال کرنے میں بڑی رکاوٹ ہے۔ایک ممکنہ تعیناتی کو روکنےکیلیئے ایسی سیاسی کھچڑی کا شاید اس حکومت کو گمان نہیں تھا بہرحال اب اس نوزائیدہ حکومت نے دیکھنا ہے کہ کیا اس نے مزید کھچڑی بنانی ہے فوری طور پر چند بڑے اقدامات اٹھانے ہیں۔ یہ بات بالکل واضح ہے کہ ڈالر کو لگام ڈالے بغیر نہ پٹرول قابو میں آئے گا نہ منہگائی کا جن بوتل میں بند ہو گا۔اس صورت میں حالات بدتر ہونگے اور ایسی گھبراہٹ میں تو عوام کو یہ بھی نہیں کہہ سکتے کہ ” آپ نے گھبرانا نہیں”

Skip to toolbar