فصلی بٹیرے اور اصل واردات

یسٹیبلشمنٹ کو کوسنے والے آج اسکی بلائیں لیتے نہیں تھکتے۔اور سر کا تاج کہنے والے آج سارے فساد کی جڑ کہہ رہے ہیں۔

وطن عزیز میں ہر پندرہ بیس سال بعد مسائل کی پرانی قبر پر نئے نعروں کا کتبہ لگا کر لوگوں منحرف کیا جاتا ہے۔اور شخصیات کی ایسی دھنک رنگی جاتی ہے کہ کارکنان اس کے سحر اور بھول بھلیاں سے باہر نہیں نکل پاتے۔اسی وجہ سے پارٹی کوئی بھی ہو ،سیاسی کارکن کا ‏‎‎ اپنا اپنا “راہ راست” ہے اور اپنا اپنا “سچ ” ہے۔ جو بات پسند ہے وہی راہ راست ہے وہی سچ ہے ۔اس کے متضاد جتنی مرضی بڑی دلیل لائیں وہ بے معنی ہے۔اس سے بڑا المیہ یہ ہے کہ یہ راہ راست اور سچ موسم کی طرح تبدیل ہو جاتا ہے۔کسی بھی پارٹی کے سیاسی ورکرز کے چھ مہینے پہلے اور بعد کے بیانات دیکھیں۔کسی بھی پارٹی کے سیاستدانوں کے بیانات دیکھیں سب کا یہی حال ہے۔ایسٹیبلشمنٹ کو کوسنے والے آج اسکی بلائیں لیتے نہیں تھکتے۔اور سر کا تاج کہنے والے آج سارے فساد کی جڑ کہہ رہے ہیں۔تھوڑے عرصہ بعد دونوں گروپس کے بیانات پھر تبدیل ہو جائیں گے۔ سیاسی راہنما “ووٹ کو عزت دو ” کا نعرہ لگاتا ہے ورکرز ساتھ کھڑے ہو جاتے ہیں۔یہ نعرہ حکومتی ایوانوں میں بازگشت کھو دیتا ہے تو کارکنان سپہ سالار کے قصیدے سنانے لگ جاتے ہیں. سیاستدان خودمختاری اور حقیقی آزادی کا نعرہ لگاتا ہے تو چند ماہ پہلے قصیدہ گو کارکنان انہی کے بکھیے ادھیڑنے لگتے ہیں جن کی محبت میں باقی سارا ملک غدار لگتا تھا۔یوں “صاحب بہادر” چند لوگوں سے سیاسی بھاو تاو کر کے کڑوڑوں کی آبادی کے ایک حصہ کو حمایتی بنائے رکھتا ہے۔بالکل قلیل سی تعداد ہے جس کا موقف ایک رہتا ہے اور موسم تبدیل ہونے کے ساتھ انکا موقف تبدیل نہیں ہوتا۔یہ وہ طبقہ ہے جو کسی دور میں بھی لوگوں کی بھڑاس سے محفوظ نہیں رہا۔
پاکستان کی سایسی تاریخ میں “صاحب بہادر ” کا کردار کبھی ختم نہیں ہوا۔اگرچہ ہر حکومت اپنے ورکرز کو باور کرواتی ہے کہ اب نظام کی باگ دوڑ اسکے ہاتھ میں ہے۔اس میں صاحب بہادر بھی اپنا حصہ ڈالتا ہے اور ذرائع ابلاغ میں اپنے ہی پلانٹڈ لوگوں سے یہ بیانیہ بناتا ہے اور موقع کی مناسبت سے انہی سے خود کو قصوروار بھی ٹھہراتا ہے۔جی حضوری سے محظوظ ہونے کی ایسی لت پڑی ہے کہ تسکین کیلیے کسی بھی وقت سیاسی پیادوں کو آگے پیچھے کر کے نئی واردات کر دی جاتی ہے اسکی قیمت سیاستدان ہو یا پاکستان ،صاحب بہادر کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔

اس بار صاحب بہادر کو عجیب صورت حال کا سامنا تھا سو اس نے واردات بھی انوکھی ڈالی۔ عمران خان صاحب تقریبا چار سال گزار چکے تھے اور معاشی بدحالی اور منہگائی کی وجہ سے دیوار کے ساتھ لگتے نظر آ رہے تھے۔پھر اچانک ملک میں ایک نیا سیاسی دنگل سج گیا۔سیاسی پنڈت چیختے رہے لیکن کرسی کی کشش ایسی ہے کہ اس وقت کی اپوزیشن جماعتیں کسی کی بات سننے یا ماننے کو تیار نہیں تھے۔پھر جو ہوا وہ سب نے دیکھا۔ منہگائی کا نیا طوفان آیا، ڈالر کو پر لگ گئے۔ خان صاحب پھر سے مضبوط ہوئے۔یوں صاحب بہادر کی واردات مکمل ہوئی۔سیاسی طور پر ہر پارٹی کا کارکن اپنی پارٹی کو بھاری اکثریت سے جیتتے دیکھ رہا ہے .لیکن واردات یہ ہوئی کہ اب تینوں بڑی پارٹیوں میں سیٹیں تقسیم ہونگی اور شاید طویل عرصہ تک کسی کو بھی دو تہائی اکثریت نہ ملے۔یوں صاحب بہادر کی اجارہ داری قائم رہے گی اور وہ کٹھ پتلی کی طرح حکمرانوں کو نچاتا رہے گا۔
سیاسی شطرنج کو سمجھنے والے دیکھ رہے ہیں کہ اشد ضرورت کے باوجود دونوں گروپس کو مذاکرات کے ٹیبل پر نہیں لایا جا رہا۔بلکہ صاحب بہادر کے ایک گروپ کی جانب سے ایک طرف حکومت کو مزید ایک سال حکومت چلانے کی تھپکی دی جا رہی ہے تو دوسرے گروپ کی طرف سے اپوزیشن کو اگلے دو ماہ میں الیکشن کا دلاسہ دیا جا رہا ہے۔لگتا یوں ہے کہ اس رسہ کشی سے فائدہ اٹھا کر ٹیکنو کریٹ کا گروپ بطور نگران حکومت لایا جائےاور حالات اور عدالت کے دھارے میں تین کی بجائے چھ سات ماہ اسے بہایا جائے۔اس دوران درج بالا واردات کو فائنل ٹچ دینے کے لیئے باقی ضروری اقدامات اٹھائے جائیں۔

Skip to toolbar