Trendingاردوپاکستان

ممنوعہ سمجھنگ – فارن فنڈنگ کیس جس کا نام ممنوعہ فنڈنگ میں تبدیل کیا گیا

اس میں صرف کسی پاکستانی کی انڈین بیوی ہی نہیں اسرائیل سے لنک کرتے لوگ، آفشور کمپنی کے ذریعے انسانی فلاح و بہبود کے کاموں کے لیے لی جانے والی رقم جو کہ پارٹی فنڈ میں آئی وغیرہ بھی شامل ہیں

ممنوعہ “سمجھنگ”

فارن فنڈنگ کیس (جسکا ٹائٹل الیکشن کمیشن نے تبدیل کر کے ممنوعہ فنڈنگ رکھا) کا فیصلہ آیا اور اکبر ایس بابر کا آٹھ سالہ موقف درست ثابت ہوا۔اس فیصلہ کے تین اہم نکات ہیں۔ایک یہ کہ پی ٹی آئی نے ممنوعہ فنڈنگ لی۔(اس میں صرف کسی پاکستانی کی انڈین بیوی ہی نہیں اسرائیل سے لنک کرتے لوگ، آفشور کمپنی کے ذریعے انسانی فلاح و بہبود کے کاموں کے لیے لی جانے والی رقم جو کہ پارٹی فنڈ میں آئی وغیرہ بھی شامل ہیں)۔ دوسرا یہ کہ یہ سب پارٹی لیڈر کے علم میں تھا اور جانتے بوجھتے فنڈنگ لی۔تیسرا سب سے اہم نکتہ یہ کے حلفیہ بیان جھوٹے ہیں۔ اسکے علاوہ بے نامی اکاونٹ، ایسے اکاونٹ جن پر سائن ہیں لیکن انکو تسلیم نہیں کیا، ایسے اکاونٹ جنہیں تسلیم نہیں کیا لیکن ان سے رقم آنے پر نکلوا بھی لی مزید اس طرح کی کافی فائنڈنگز ہیں لیکن اہم درج بالا تین ہیں۔
اس فیصلے کے قانونی نتائج سے پہلے سیاسی کارکنان اور راہنماء کے حوالےسے چند پہلووں پر روشنی ڈالنا مناسب ہو گا۔سیاسی طور پر چونکہ الیکشن کمیشن کے حوالے سے ایک فضا بنائی گئی تھی اس لیئے کارکنان کی بڑی تعداد اس پر سوال اٹھانے کی بجائے مختلف حوالوں سے دفاع کر رہی ہے۔اور کچھ کارکنان تو اتنے جذباتی ہیں کہ انکی طرف سے کیا جانے والا دفاع حقیقت میں ایک چارج شیٹ ہے۔مثال کے طور پر ایک بیانیہ چل رہا ہے کہ باہر سے لوٹ کر پیسے لانے والا گھر کو لوٹنے والے سے بہتر ہے۔مطلب ان کے نزدیک صرف اپنے گھر سے چوری حرام اور باقی کسی کو بھی لوٹنا حلال ہے۔اسی طرح فارن فنڈنگ اور ممنوعہ فنڈنگ کی بحث بھی ایک الگ گھڑمس ہے۔لیکن یاد رہے کہ کسی بھی جماعت کے سیاسی کارکن کی بڑی تعداد کا رویہ عموما ایسا ہی ہوتا ہے۔وہ اپنی جماعت کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں سوائے اس قلیل تعداد کے جو جماعت سے محبت رکھتے ہوئے بھی اس کے غلط کاموں پر تنقید کرتے ہیں اور تیور بھی دکھاتے ہیں۔لیکن بڑا المیہ یہ ہے کہ پارٹی سربراہ گزشتہ آٹھ سال سے ہر جگہ جانتے بوجھتے اس سے انکار کرتے رہے چاہے وہ حلفیہ بیان ہو، میڈیا ہو یا کورٹ کچہری۔اور اس کے متوازی آئے روز احتساب کا وعدہ اور انصاف کا تقاضا کرتے رہے، سچ کی تلقین کرتے رہے۔دوسری جماعتوں کو ایسے کاموں پر قصوروار ٹھہرا کر سزا کا مطالبہ بھی کرتے رہے۔یہ اگرچہ اخلاقی پستی ہے لیکن وطن عزیز کی سیاست میں اخلاقیات کا فقدان ہے۔
جہاں تک قانونی پہلو ہیں تو یہ واضح ہے کہ الیکشن کمیشن کے شو کاز نوٹس کا جواب دینے کی بجائے سڑک کو گرم کرنے اور سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکٹھانے کی طرف توانائی صرف کرنے کا امکان زیادہ ہے۔اب وقتی طور پر نظر یہ آ رہا ہے کہ الیکشن کمیشن زیادہ سے زیادہ فنڈ ضبط کرے گا، سپریم کورٹ سے آسانی سے (پی ٹی آئی کے مطابق) ریلیف مل جائے گا، سابقہ چند فیصلوں کے تناظر میں باسٹھ ایف لاگو نہیں ہو گا وغیرہ۔لیکن حقیقت یہ ہے کہ الیکشن کمیشن کا فیصلہ اس ساری فنڈنگ کی منی ٹریل ہے۔ اگر حکومت یہ کیس عدالت میں لے کے جاتی ہے اور اس پر فل کورٹ ببیٹھتا ہے تو کافی مشکلات ہونگی۔یہ بھی ہو سکتا ہے آج اس پر کوئی مشکل نہ ہو لیکن یاد رہے کہ یہ تلوار ہمیشہ کیلے عمران خان کے سر پر لٹکتی رہے گی اور جب بھی ڈوریں ہلانی مقصود ہوئیں کسی بھی پٹیشن کے ذریعے یہ کیس دوبارہ کھول کر ناطقہ بند کیا جا سکتا ہے

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button